پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر انتخاب عالم نے کہاکہ ویسٹ انڈیز کا دورہ آسان نہیں ہوتا کیونکہ ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے میں جانے کیلئے بہت سے مسائل پیش آتے ہیں جبکہ مختلف مافیا کے سرگرم رہنے کے باعث کھلاڑیوں کو کرفیو کے اوقات کے علاوہ اپنی سرگرمیاں محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انتخاب عالم نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے نوجوان کھلاڑی جذبے سے سرشار ہیں،کھلاڑی ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں، نظم و ضبط کے حوالے سے تمام کھلاڑیوں کا رویہ مثالی ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ نوجوان کھلاڑی ہی ٹیم کا مستقبل ہیں، دورہ ویسٹ انڈیز نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں جگہ مستقل بنانے کا موقع فراہم کرے گا، تجربہ کار کھلاڑیوں کو مرحلہ وار ٹیم سے الگ کرنے کا حامی ہوں، بعض کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے پر ہی توجہ دینی چاہیے۔ وقار یونس نے کہاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو دورہ ویسٹ انڈیز میں موقع دینے کا سب سے بڑا حامی تھا، بورڈ اور سلیکشن کمیٹی نے میری تجویز پر بعض سینئر کھلاڑیوں کو آرام دینے کا فیصلہ کیا، جس سے نئے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا تجربہ کار کھلاڑی کو فوری ٹیم سے الگ کرنا درست نہیں۔امید ہے کہ وکٹ کیپر محمد سلمان، حماد اعظم، جنید خان جلد ٹیم کے مستقبل کے اہم رکن بن جائیں گے۔انہوں نے کہا بعض سینئر کھلاڑیوں کو میرے خیال میں اب صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے پر توجہ دینی چاہیے۔ حالیہ کچھ عرصے میں ون ڈے کرکٹ میں تبدیلی آئی ہے ،ٹی ٹونٹی کے بعد دنیا بھر میں عمر رسیدہ کھلاڑیوں کو صرف ٹیسٹ کرکٹ تک محدود کیا جا رہا ہے، جسے پاکستان کی ٹیم میں بھی آزمایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ورلڈکپ کی تیاریاں ابھی سے ہی شروع کر دینی چاہئیں، میں بطور کوچ اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں کیونکہ جن حالات میں ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری سنبھالی اس وقت ٹیم شدید مشکلات اور کٹھن دور سے گزر رہی تھی، اب ٹیم کی تعمیرنو کی طرف توجہ ہے۔

Comments
Post a Comment