سٹے بازی کو قانونی شکل دینے کی تجویز

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سربراہ ہارون لوگارٹ نے برصغیر میں کرکٹ پر ہونے والی سٹے بازی کو قانونی شکل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں آئی سی سی کے سربراہ نے کہا کہ سٹے بازی کو قانونی شکل ملنے سے کرکٹ کے کھیل میں بدعنوانی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ہارون لوگارٹ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قانونی شکل ملنے کے بعد آپ اس صنعت سے وابستہ لوگوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور ان پر نظر رکھ سکتے ہیں۔
لورگارٹ کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب جمعہ کو لندن کی عدالت نے پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر اور ان کے ایجنٹ مظہر مـجید پر لگے ’سپاٹ فِکسِنگ‘ کے الزامات کے سلسلے میں ہونے والی سماعت کی اگلی تاریخ چار اکتوبر طے کی ہے۔
ہارون لوگارٹ کی اس تجویز پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ توقیر ضیاء نے سختی سے مخالفت کی ہے۔توقیر ضیاء نے کہا کہ برطانیہ اور آسٹریلیا کے قانون تو سٹہ بازی کرنے کی اجازت دیتے ہیں مگر پاکستان میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’نہ تو حکومتِ پاکستان اس کی اجازت دے گی اور نہ ہی ملا حضرات۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے اس قسم کی تجویز پیش کرنا ایک اور لڑائی کھڑی کرنے کے برابر ہو گا۔
پی سی بی کے سابق سربراہ نے کہا کہ ’میں ہارون لوگارٹ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کرپشن ختم کرنے کے لیے انہوں نے ہمارے تو تین کھلاڑی پکڑ لیے اور ایک دو پر پابندیاں لگا دیں، مگر انہوں نے سٹہ بازوں کو پکڑنے کے لیے کیا کیا ہے؟‘
ان کے مطابق آئی سی سی کو سپاٹ فِکسِنگ اور میچ فِکسِنگ کے خاتمے کے لیے جو کردار ادا کرنا چاہیے وہ نہیں کر رہا۔
آئی سی سی کے سابق سربراہ احسان مانی نے بی بی سی سے بات کرتے مسٹر لوگارٹ کی اس تجویز کی بھرپور حمایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ’ پاکستان اور بھارت میں سٹہ بازی کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہونے کے باعث یہ چوری چھپے کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کھیل اور کھلاڑی دونوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس جن ملکوں میں سٹہ بازی قانونی طور پر جائز ہے جیسے کہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور برطانیہ، وہاں سٹہ بازوں کی مکمل نگرانی کی جاتی ہے۔ نگرانی ہونے کے باعث کہیں بھی کوئی گڑ بڑ ہوتی ہے تو آئی سی سی کا انسداد بدعنونی کا یونِٹ فوراً اس کی تحقیقات کرتا ہے اور مسئلے کی جڑ تک پہنچتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے مقابلے میں ہمارے خطے میں بدعنوانی کے مسائل زیادہ پائے جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’بھارت کے بعد پاکستان میں سٹہ بازوں کا بڑا جال بچھا ہوا ہے اور اگر ان کو اپنا کام جاری رکھنے کے لیے لائسنس لے کر خود کو رجسٹر کرنا پڑے تو اس سے وہ قانونی دائرے کار میں داخل ہو جائیں گے، جس سے ان پر نطر رکھی جا سکے گی اور ان کو کنٹرول کرنے میں بھی آسانی ہو گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے سٹہ بازوں کے کھلاڑیوں سے راوبط کو بھی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
احسان مانی نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں پہلے اس سچ کو ماننا ہو گا کہ ایشیا سٹہ بازی کا گڑھ بن چکا ہے اور کرکٹ میں بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے کرکٹ میچ پر ہونے والی سٹہ بازی کو قانونی شکل دینا آئی سی سی کا ایک اچھا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔‘
اسی سلسلے میں جب میں نے پاکستان کے شہر لاہور کے ایک مقامی سٹہ باز مسٹر اے’ فرضی نام‘ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ یہ ایک اچھی تجویز ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ’ چھپ چھپ کر تو سٹہ بازی ہر کوئی کر رہا ہے مگر اس کی قانونی سطح پر اجازت ملنے سے حکومت کو بھی فائدہ ہو گا، کیونکہ وہ سٹہ بازی کے ذریعے سرمایہ کما سکتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکام سٹہ بازوں کو میچ فِکسِنگ اور سپاٹ فِکسِنگ سے روکنے میں ناکام رہے ہیں لہذا ایسا کرنا ہی ان کے خیال میں بہترہوگا۔‘

Comments