اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنا دلی خواہش ہے، سہیل عباس

پاکستان ہاکی ٹیم کے فل بیک پینلٹی کارنر کے ماہر سہیل عباس نے کہا ہے کہ ان کا فی الحال انٹرنیشنل ہاکی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اولمپکس تک ملک کی نمائندگی کرنے کا خواہش مند ہوں، ایونٹ میں گولڈ میڈل کا حصول دلی خواہش ہے۔ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر سہیل عباس نے کہا کہ خود کو فٹ محسوس کرتا ہوں اور اپنی فٹنس و کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں رہنا چاہتا ہوں، بوجھ بن کر ٹیم میں شامل نہیں رہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد ٹیم میں اعتماد آ گیا ہے جس کا مظاہرہ کھلاڑیوں نے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں بھی کیا۔ ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کارکردگی توقعات سے زیادہ اچھی رہی۔ انگلینڈ کے خلاف اگر ہم گول کے مواقع ضائع نہیں کرتے تو اسے شکست دے سکتے تھے۔ آسٹریلیا کے خلاف پہلے میچ میں آف کلر ہو گئے مگر فائنل میں ہم نے انہیں مشکلات سے دوچار کر دیا۔ بدقسمتی سے گولڈن گول مرحلے میں ہم ہار گئے۔ اس سوال کے جواب میں کہ فاضل وقت کے پہلے ہاف میں آپ کو آرام دیا گیا اور پاکستان نے پینلٹی کارنر ضائع کر دیا، سہیل عباس نے کہاکہ کھیل میں ایسا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی قیادت کی خواہش نہیں کی، ایک مزدور کی حیثیت سے ہمیشہ اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی۔ ملک کی نمائندگی کرنا اور اس کے لیے کامیابی حاصل کرنا میرا مشن اور مقصد ہے۔ سہیل عباس نے کہاکہ پی ایچ ایف کے موجودہ عہدیداروں نے ہاکی میں کھوئے ہوئے مقام کی واپسی کے لیے جو اقدامات کیے ہیں ان کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اب یہ کھیل ملک میں30، 35 کھلاڑیوں سے باہر نکل آیا ہے، بڑی تعداد میں باصلاحیت جونیئر کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں شریک ٹیمیں کمزور تھیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی طرح ہر ٹیم نے دو سے چار نئے لڑکے آزمائے جنہوں نے بہتر پرفارمنس دی۔ انہوں نے کہاکہ چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ اہم ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ اس ایونٹ میں وکٹری اسٹینڈ پرآئیں۔

Comments