لاہور(سن)پاکستان کرکٹ ٹیم حالیہ مہینوں کے دوران اوپر تلے تنازعات کی زد میں رہی ان واقعات کے سدباب کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ اب اپنے سخت ضابطہ اخلاق کو پوری طرح عمل میں لا رہا ہے۔ پی سی بی انتظامیہ اب کھلاڑیوں اور آفیشلز کو چھوٹ دینے پر تیار نہیں اور ڈسپلن کی معمولی سے خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، بورڈ کے سخت گیر موقف، پے در پے جرمانوں اور شوکاز نوٹسز نے قومی کرکٹرز کے ساتھ ساتھ ٹیم آفیشلز کی زبانوں پر بھی تالے ڈال دیئے ہیں پاکستان ٹیم کے کپتان مصباح الحق سمیت کئی کھلاڑی اس وقت پاکستان میں موجود ہیں لیکن وہ میڈیا سے بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس ان دنوں سڈنی میں ہیں۔ پی سی بی کے ذرائع کے مطابق چیئرمین اعجاز بٹ کی ہدایت پر کھلاڑیوں اور آفیشلز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا سے بات نہ کریں، وقار یونس کی حالیہ ٹور رپورٹ پی سی بی انتظامیہ خود منظر عام پر لائی تاکہ شاہد آفریدی پر دبائو بڑھایا جا سکے۔ پی سی بی کے ایک افسر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ آفریدی مخالف مہم کو ہوا دیں تاکہ شاہد آفریدی کو خاموش کیا جا سکے البتہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ میڈیا سے دور رہیں، پاکستان میں یہ روایت عام رہی ہے کہ کھلاڑی اجازت کے بغیر اخبارات اور ٹیلیویژن کو انٹرویو دے دیتے تھے تاہم ضابطہ اخلاق کے تحت کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کر کے انہیں پابند بنایا گیا ہے کہ وہ میڈیا سے دور رہیں۔

Comments
Post a Comment